سب مٹی ھو جانا تھا ، اور انشاء کبھی پیدا نہ ھوتا

ibneinshaاحمد بشیر میرے پاس آیا اور بولا ، ”مفتی !! مجھے فلم کی کہانی لکھ دو“ اُن دنوں احمد بشیر کے سر پر فلم بنانے کا جنون تھا.

میں نے کہا , میں فلمی کہانیاں نہیں لکھتا.

بولا ، ”یار کوئی بھی الگ سی کہانی لکھ دے. عام سی لو سٹوری نہ ھو بس ذرا الگ سی ھو“.

میں نے کہا ، ”تجھے ابن انشا کی کہانی نہ لکھ دوں ؟؟ بڑی الگ لو سٹوری ھے“.

احمد بشیر کا منہ کھُلا رہ گیا ، بولا ، ”کیا انشا نے کسی سے محبت کی ھے ؟“

میں نے کہا ، ”ھاں کی ھے لیکن بڑی عجیب سی محبت“.

ابنِ انشاء نے اُس عورت سے محبت کی ھے جو شادی شدہ ھے اور بچوں کی ماں ھے ، اپنے شوھر کے ساتھ خوش ھے۔ غالباً شعر بھی کہتی ھے اور انشاء کے لیے کوئی ھمدردی کا جذبہ نہیں رکھتی بلکہ اُس کی تذلیل کرتی رھتی ھے ، انشاء کو نیچ سمجھتی ھے۔

میں نے انشاء کو کہا کہ یہ کیسی محبت ھُوئی ؟؟ وہ تو تجھ سے فائدہ اٹھاتی ھے اور تیرے رسالے میں اپنا کلام چھپواتی ھے۔ وہ بس شہرت کی بھُوکی ھے اور تُو اس کے لیے سادھو بنا بیٹھا ھے۔ مجھے ایسی مطلبی عورتوں سے تو شدید نفرت ھے۔

انشاء بولا ، ”محبت دکھ کے لیے ھی کی ھے اور جان کر کی ھے کہ کہیں وصال کی صورت پیدا نہ ھو جائے۔ وہ شادی شدہ ھے اور مجھ سے ذرا سا لگاؤ نہیں رکھتی۔ میں تو اس کا شکر گزار ھوں کہ اس کے درد نے مجھے شاعر بنا دیا ، شہرت دے دی۔ اگر وہ شادی شدہ نہ ھوتی یا مجھ سے لگاؤ لگا لیتی تو مفتی !! بڑی گڑبڑ ھو جانی تھی.

سب مٹی ھو جانا تھا ، اور انشاء کبھی پیدا نہ ھوتا“۔

مُمتاز مفتی“

کتاب ”الکھ نگری“ سے اقتباس

Advertisements

Your Thoughts

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s